لاہور(پنجاب پوسٹ) مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت و حرمین شریفین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکاء نے حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے، تحفظ حرمین کے لیے تیار ہیں سمیت مختلف نعرے لگائے۔ کانفرنس سے مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید، ہدیۃ الھادی پاکستان کے امیر پیر سید ہارون علی گیلانی، سابق رکن پنجاب اسمبلی معاویہ اعظم طارق، نائب صدر مرکزی مسلم لیگ حافظ عبدالرؤف، جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ، مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، سیکرٹری جنرل میاں چنوں حافظ منور گجر سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
سیف اللہ قصوری نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے، اسے اندرونی انتشار اور سیاسی افراتفری کی جانب لے جانے کی بجائے مضبوط و مستحکم کیا جائے۔ آپسی لڑائی جھگڑے ختم کرنا ہوں گے، دشمن کی سازشوں کو اتحاد کے ذریعے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مرکزی مسلم لیگ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، حرمت رسول کے پاسبان اور پاکستانی قوم وطن عزیز کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان مضبوط و مستحکم ہوگا تو امت کی قیادت کرے گا، جبکہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستانی قوم تیار اور بیدار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت عالمی یوم اساتذہ کی مناسبت سے ملک بھر میں تقریبات
حافظ طلحہ سعید نے کہا کہ پاکستان میں داخلی انتشار خواہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہو یا کسی اور طرف سے، درست نہیں۔ انتشار اور تفریق کے بجائے اتحاد و یکجہتی کی بات کی جائے، سیاسی منظرنامے میں رسہ کشی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہر کلمہ گو جان قربان کرنے کو تیار ہے۔ معاویہ اعظم طارق نے کہا کہ اتحاد امت وقت کا تقاضا ہے اور مرکزی مسلم لیگ کو شاندار کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
حافظ عبدالرؤف نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات کے بجائے پاکستان کے لیے آگے بڑھنا چاہیے اور خدمت کی سیاست کو مشن بنانا چاہیے، ذاتی مفادات کی سیاست کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور اس کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر قوم کو متحد کر رہی ہے، ماضی میں مذہب، فرقوں، علاقائیت اور لسانیت کے نام پر قوم کو تقسیم کیا گیا، ہمیں اپنی شناخت اور پہچان لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نظام سے جوڑنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کلمہ کا نظام آئے تو مسائل حل ہوں گے، ہم عام شہری اور ہر پاکستانی کو جینے کا حق دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی دنیا میں سر اٹھا کر جی سکیں۔ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترجیحات تبدیل کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے، بصورت دیگر انتخابات میں قوم احتساب کرے گی۔










