مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار سہیل آفریدی، ایک اور 9 مئی نہیں ہونے دیں گے، محسن نقوی نے خبردار کردیا

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم مذاکرات اس وقت خراب ہوئے جب معاملہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر پہنچا۔ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے، اب ہم ایک اور 9 مئی نہیں ہونے دیں گے۔

 لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہاکہ کسی بھی صورت 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مزید مذاکرات نہیں ہوں گے اور لانگ مارچ شروع ہوا تو مذاکرات کا سلسلہ ختم سمجھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات میں کیا باتیں ہوئیں ، محسن نقوی نے وزیراعظم کو سب احوال بتا دیا

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کسی بھی شکل میں ہو، قانون اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔ لانگ مارچ میں شریک افراد کو توہین عدالت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے لیے آنے والی ٹیم سنجیدہ اور معقول تھی، وہ اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں آنا چاہیے تھا۔ سہیل آفریدی یا ان کے نمائندے کو مذاکرات میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدقسمتی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مذاکرات سبوتاژ کیے۔ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نہیں مانتے، بعد میں فائنل معاہدے میں بھی تبدیلیاں کردیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ مکمل طور پر دہشتگردی سے متعلق ہے۔ ہمارا مقصد صرف دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی طے کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں دو الگ معاہدوں پر بات ہوئی، ایک اعلامیہ اور دوسرا دہشتگردی سے متعلق تھا۔ دہشتگردی سے متعلق معاہدے میں افغانستان، ٹی ٹی پی اور سابق فاٹا کے معاملات شامل تھے، جبکہ ضم شدہ اضلاع اور نیشنل ایکشن پلان بھی نکات میں شامل تھے۔

مزید پڑھیں : کسی جماعت کو راستے بند کرنے کا قانونی حق نہیں، پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی قیادت کی ناپختگی نے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا۔ سیاست میں غیر معمولی رویوں کے باعث معاملات خراب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار بھی انجوائے کریں اور دھونس و دھمکی بھی دیں، یہ ممکن نہیں۔ اقتدار کے ساتھ دھونس اور دھمکی کی سیاست نہیں چل سکتی۔

محسن نقوی نے کہا کہ بدقسمتی سے پسِ پردہ بعض عناصر کے مفادات کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے