لاہور ( پنجاب پوسٹ) لاہور میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق “نیکسٹ جین سیفٹی ایپ” نوجوانوں خصوصاً جین زی کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 1900 سے زائد صارفین نے ایپ کی چیٹ سروس کے ذریعے بغیر شناخت ظاہر کیے اپنے مسائل شیئر کیے، جبکہ 555 سے زائد شہریوں نے ویڈیو کال کے ذریعے ماہرین سے فوری رہنمائی حاصل کی۔ اسی عرصے میں 700 سے زائد صارفین نے ایمرجنسی سروسز کے لیے بھی اس ایپ کا استعمال کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایپ کے ذریعے صارفین کو ذہنی، قانونی اور ہنگامی نوعیت کی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس میں سیف سٹی میں تعینات ماہرینِ نفسیات اور پولیس اہلکار مشترکہ طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایپ میں مکمل پرائیویسی کے ساتھ شکایات درج کروانے کی سہولت موجود ہے، جبکہ ایمرجنسی ہیلپ لائن 15، فیملی سرکل، لوکیشن شیئرنگ اور پینک بٹن جیسے فیچرز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین قریب ترین وائی فائی اسپاٹس اور پولیس خدمت مراکز تک بھی فوری رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ “نیکسٹ جین سیفٹی ایپ” کے ذریعے نوجوانوں کو مفت قانونی مشورہ اور ماہرِ نفسیات سے رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ فیملی سرکل فیچر کے ذریعے اپنے قریبی افراد کو شامل کر کے سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق ادارہ نوجوانوں کے لیے محفوظ، بااعتماد اور جدید ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔















