پانی پاکستان کی زندگی، زراعت اور معیشت سے جڑا ہے، اسے بطور ہتھیار استعمال نہیں ہونے دیں گے، عطاء اللہ تارڑ

لاہور (پنجاب پوسٹ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ طے شدہ بین الاقوامی معاہدے پر عمل درآمد متعلقہ فریقین کے لیے لازمی ہے، بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی جانب سے "پانی کا بطور ہتھیار استعمال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی و تذویراتی پہلو” کے موضوع پر خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی جانب سے رپورٹ کا اجراء لائق تحسین ہے۔ بطور پاکستانی ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق سندھ طاس کی قدیم تہذیب سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو نہ معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی التواء میں رکھا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت بھی پاکستان کے موقف کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے، جبکہ سندھ طاس معاہدے کو معطل یا التواء میں رکھنے کے خلاف عالمی عدالتیں واضح فیصلہ دے چکی ہیں۔ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنا موقف سفارتی سطح پر اٹھایا اور عالمی برادری کو اپنے قانونی موقف سے آگاہ کیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ ہمارا پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا۔ پانی پاکستان کے عوام کی زندگی، زراعت اور معیشت سے براہ راست جڑا ہوا ہے، جبکہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن و استحکام کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کر چکا ہے۔ ہمارا مشرقی ہمسایہ ہم پر سرحد پار مداخلت کے بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے اور انہی بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے تاہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دے سکتا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے