بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی جانب اہم پیش رفت، پاکستان کی پہلی 400 میگاواٹ Wheeling Auction میں پنجاب کی ممکنہ شرکت پر غور

لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی 400 میگاواٹ Wheeling Auction میں ممکنہ شرکت پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں اوپن ایکسس وہیلنگ اور مسابقتی بجلی مارکیٹ سے متعلق حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے بجلی کی قیمتوں، گرڈ چارجز، تجارتی افادیت اور بولی کی حکمتِ عملی سمیت مختلف پہلوؤں پر غور کیا۔ اجلاس میں پنجاب کی ممکنہ شرکت کے مالی امور کیلئے PFAS کو بیرونی مالیاتی مشیر مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں سیکرٹری توانائی محمد اجمل بھٹی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ ایم ڈی پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ سانیہ اویس نے اجلاس کو اہم امور پر بریفنگ دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل ایوب کھوکھر نے کہا کہ اوپن ایکسس وہیلنگ پاور سیکٹر میں شفاف اور مسابقتی بجلی مارکیٹ کی جانب اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق اس نظام سے صنعتی صارفین کو مسابقتی اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

صوبائی وزیر توانائی نے کہا کہ پنجاب کے صنعتی شعبے کو مسابقتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صنعتی ترقی کیلئے قابلِ اعتماد اور مسابقتی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے، جبکہ مسابقتی بجلی مارکیٹ سے صنعتوں کیلئے توانائی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں جدید اصلاحات صنعتی اور معاشی ترقی کیلئے نئے مواقع پیدا کریں گی۔ پنجاب کے بڑھتے ہوئے کلین انرجی پورٹ فولیو سے معاشی فوائد حاصل کرنے کیلئے جدید نظام ضروری ہے، اور صوبے میں توانائی کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔

فیصل ایوب کھوکھر نے واضح کیا کہ وہیلنگ آکشن میں شرکت سے پہلے تمام مالی، تکنیکی اور تجارتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صاف توانائی کے فروغ اور پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، اور پنجاب حکومت توانائی کے شعبے میں شفاف اور معاشی طور پر مؤثر اصلاحات کیلئے پرعزم ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے