لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندگان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز کے حوالے سے دائر کی گئی آئینی درخواستوں کو خارج کر دیا ہے، جس سے متعلقہ تفتیشی و عدالتی فورمز کو معاملے کا فیصلہ قانون اور شواہد کی روشنی میں کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
جسٹس حسن مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل بینچ نے محمود اختر سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواستیں بے بنیاد ہونے کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہیں، اور تفتیشی ایجنسی و متعلقہ عدالت کو ہدایت کی کہ وہ قانون، دستیاب مواد اور شواہد کی روشنی میں معاملے کا فیصلہ کریں۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ہائیکورٹ کا موجودہ فیصلہ کسی عدالت یا تفتیشی ایجنسی پر منفی اثر نہیں ڈالے گا۔ عدالت نے کہا کہ اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں دیا جا رہا کہ درخواست گزاروں پر ٹیکس واجب الادا ہے یا نہیں، بلکہ ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ فورم شواہد کی بنیاد پر کرے گا۔
واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے ڈی جی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب ٹیکس واجب الادا نہیں تھا تو نوٹسز جاری کیے گئے، اور مبینہ طور پر جواب دینے کے باوجود ان کے خلاف ایف آئی آرز درج کر لی گئیں، جبکہ معاملہ پہلے ہی انکم ٹیکس ٹربیونل میں زیر سماعت ہے۔
درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ جب ٹیکس افسر کے سامنے معاملہ زیر سماعت ہو تو اس دوران ایف آئی آرز کا اندراج غیرقانونی اور بے بنیاد اقدام ہے۔










