تحریر : زروا خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دعویٰ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پانچ اکتوبر کو لانگ مارچ کا دعویٰ کیا ہے مگر یہ لانگ مارچ ملکی حالات کے تناظر میں ہوتا نہیں دکھائی دے رہا۔ اسکے چند بنیادی نکات ہیں۔
کرکٹ شیڈول اور لانگ مارچ میں تصادم،تحریک انصاف اسلام آباد آنے کی تیاریاں تو کر رہی ہے مگر 9 اکتوبر سے 25 اکتوبر تک راولپنڈی میں سری لنکا اور انگلینڈ کے ساتھ میچز ہیں۔ اس لیے اکتوبر میں کسی لانگ مارچ کا کوئی امکان نہیں۔
تفصیلی میچ شیڈول
حالیہ شیڈول کے مطابق پہلے 9 اکتوبر سے 13 اکتوبر تک راولپنڈی سٹیڈیم میں سری لنکا کے ساتھ ٹی 20 میچز کھیلے جانے ہیں۔ پھر 18 اکتوبر سے پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کی ٹرائی سیریز ہونی ہے، جس کے پہلے تین میچ 18، 20 اور 22 اکتوبر کو راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔ جبکہ 31 اکتوبر تک بقیہ میچز لاہور میں کھیلے جائیں گے۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں سری لنکن ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیلے گی جس کو پہلا ٹور میچ 4 نومبر کو اسلام آباد، جبکہ 9 نومبر کو پہلا ٹیسٹ راولپنڈی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ میچ 17 نومبر سے 22 نومبر تک لاہور میں ہوگا۔ اس شیڈول کے تناظر میں دیکھیں تو اکتوبر کیا، نومبر میں بھی لانگ مارچ ہوتا نظر نہیں آتا۔
حکومت کے پاس روکنے کا جواز اور عالمی وقار کا خدشہ
اب اگر پی ٹی آئی اسلام آباد کیطرف مارچ کرتی ہے تو حکومت کو میچز کے تناظر میں انہیں زبردستی روکنے کیلئے تاویل مل جائے گی۔ اگر انہیں روکا جاتا تو پھر عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔
پی ٹی آئی قیادت کے لیے تجویز
ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے فیصلے پر غور کرے اور پاکستان کو تخریب کا نشانہ بنانے کی بجائے تعمیر کا راستہ اختیار کرے۔











