پورے پنجاب میں ایف آئی آر کا نظام خراب، پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہوگئیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں چوہنگ پولیس کے اہلکار سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے شہری میاں محمد جمیل کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایف آئی آر کی پرنٹنگ کے معاملے پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب، میں نے ایف آئی آر کو پڑھنا اور سمجھنا ہے، ایف آئی آر الزامات کو سمجھنے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پورے پنجاب میں یہ مسئلہ سامنے آرہا ہے، ہمیں ہر کیس میں مسئلہ پیش آرہا ہے۔

آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم نے عدالت کو بتایا کہ پرنٹرز ٹھیک نہیں، جس کے لیے پی آئی ڈی کو لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، آپ منگل تک رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ پورے پنجاب میں ایف آئی آر کا نظام خراب ہے، پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہوگئیں۔

درخواست گزار کے مطابق سیشن کورٹ نے 2021 میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، جسے درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ معطل کردیا تھا، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود درخواست گزار کے خلاف غیر قانونی مقدمہ درج کیا گیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے