ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزمان کو بھی ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں، رشتہ داروں اور وکلاء کا شدید احتجاج

راولپنڈی (پنجاب پوسٹ) راولپنڈی میں ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزمان کو بھی ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں جس پر خواتین ملزمان کے رشتہ داروں اور ڈسٹرکٹ بار ممبران کا شدید احتجاج کیا۔

تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل سے کچہری اور واپس جیل تک خواتین ملزمان کے دونوں ہاتھ تقریباً 6 سے 7 گھنٹے تک ہتھکڑیوں میں جکڑے رہے۔

خواتین ملزمان کے مطابق دونوں ہاتھ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہونے کے باعث پولیس وین میں سوار ہونے، اترنے، واش روم جانے اور دوپٹہ درست کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار مدد کے بہانے خواتین کو وین میں سوار کرواتے وقت پیچھے سے پکڑتے اور نیچے اتارتے ہوئے ان کے ہاتھ تھامتے تھے۔

وکلاء کا احتجاج کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئین اور قانون تحت خواتین کو ہتھکڑیاں لگانا غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر اسلامی اور غیر انسانی عمل ہے جبکہ خواتین کو سزائے موت بھی نہیں دی جا سکتی۔

ایک سینیئر وکیل شاہ زیب خان کے مطابق سی پی او راولپنڈی کی جانب سے یہ حکم جاری کیا گیا تھا، جو غلط تھا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے