لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی اور خسرہ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی انتظامات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس احمد ندیم ارشد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد کم ہے، 30 ہزار بیڈز کے لیے 10 فیصد وینٹی لیٹرز ہونے چاہئیں۔ وکیل کے مطابق 2013 سے عدالتی احکامات کے نتیجے میں ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی ممکن ہوئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہزاروں خسرہ کیسز رپورٹ ہوئے اور متعدد اموات بھی ہوئیں، جبکہ 2026 میں خسرہ کے نئے الرٹس بھی سامنے آئے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ ویکسین سے خسرہ سے بچاؤ ممکن ہے، اس کے باوجود بچوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق جنوبی پنجاب میں خسرہ کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ کم ویکسینیشن اور غذائی قلت خسرہ میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ خسرہ سے شیر خوار اور کمزور بچوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، جبکہ نمونیا، دماغی سوزش اور اندھے پن جیسے پیچیدہ اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ کرونا کے بعد ویکسینیشن کا نظام متاثر ہوا، جس کے نتائج اب سامنے آرہے ہیں۔ درخواست گزار نے حکومت پر خسرہ پر قابو پانے میں ناکامی کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے بچوں کے لیے آئی سی یو اور وینٹی لیٹرز کی کمی کی نشاندہی کی۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ عوام کے بنیادی حقوق کا کیس ہے جسے آئین تحفظ دیتا ہے۔ آئین کے تحت آئینی بنچ بننے چاہئیں جو نہیں بنائے گئے۔ وکیل نے استدعا کی کہ اگر پنجاب اسمبلی آئینی بنچ کی تشکیل کے لیے قرارداد پاس نہیں کرتی تو ہائیکورٹ بنچ تشکیل دے۔
درخواست میں صحت اور زندگی کے تحفظ کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے آئینی نکات اٹھائے گئے۔ عدالت سے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، ماس ویکسینیشن مہم، صوبہ بھر میں ایمرجنسی ہیلتھ پلان اور آگاہی مہم شروع کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ نہیں سن سکتے، جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ عوام کے بنیادی حقوق کا کیس ہے۔ عدالت نے معاملے کو دیکھنے کا عندیہ دیا، بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔













