ہربنس پورہ میں تقریباً 34 کنال سرکاری اراضی پر قبضے کا معاملہ پنجاب اسمبلی پہنچ گیا

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) ہربنس پورہ میں تقریباً 34 کنال سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کا معاملہ پنجاب اسمبلی پہنچ گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اس حساس معاملے پر باقاعدہ آواز اٹھا دی ہے۔
پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی فرخ جاوید نے اس سنگین معاملے پر اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک تحریکِ التوائے کار جمع کرائی ہے۔ تحریک میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہربنس پورہ کے علاقے میں اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) شالیمار کے دفتر کے بالکل ساتھ واقع اربوں روپے مالیت کی 34 کنال قیمتی سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا نے مبینہ طور پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔


تحریکِ التوائے کار کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر دفتر کے ساتھ اتنی بڑی اراضی پر قبضے کی اعلیٰ سطح پر فوری تحقیقات کروائی جائیں اور اس غفلت یا ملی بھگت میں ملوث تمام ذمہ داران اور سرکاری حکام کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ فرخ جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ 34 کنال قیمتی اراضی کسی عوامی فلاحی منصوبے یا دیگر اہم سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی، لیکن اسے قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
تحریک میں پنجاب حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہربنس پورہ کی اس سرکاری اراضی کو مبینہ قبضہ مافیا سے فوری واگزار کرایا جائے، متعلقہ سرکاری حکام سے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے، اور مستقبل میں قیمتی سرکاری املاک کو ایسے غیر قانونی قبضوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے