لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج ساہیوال کا مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس پولیس رپورٹ کو نظرانداز کرے تو اس کے لیے ٹھوس وجوہات فراہم کرنا قانونی طور پر ضروری ہے۔
جسٹس صادق محمود خرم نے یہ فیصلہ درخواست گزار فخر الزمان کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ عدالت میں درخواست گزار کی طرف سے نامور قانون دان ساجد حسین چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، ماتحت عدالت (ایڈیشنل سیشن جج) نے 8 جولائی 2023 کو پولیس کی رپورٹ اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ درخواست میں نہ تو قابلِ کارروائی معلومات موجود تھیں اور نہ ہی ضروری تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔ عدالتِ عالیہ نے قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی شہری کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے معقول اور ٹھوس مواد کا ہونا لازمی ہے، محض الزامات کی بنیاد پر کارروائی کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔









