اسلام آباد(پنجاب پوسٹ)وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد پر دوبارہ چڑھائی کی کوشش کی گئی تو حکومت اسے اس انداز میں روکے گی کہ مستقبل میں کوئی بھی ایسا کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ ان کا یہ بیان ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران سامنے آیا، جس میں انہوں نے تحریک انصاف کی حالیہ سیاسی حکمتِ عملی اور احتجاجی تحریکوں پر سخت تنقید کی۔
حکومتی مؤقف: قانون کی بالادستی اور عدالتی احکامات کا احترام لازم
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہر پر حکومتی وسائل یا طاقت کی بنیاد پر حملہ نہیں کیا جا سکتا، اور اگر اسلام آباد کو نشانہ بنایا گیا تو یہ آئینی حلف کی صریح خلاف ورزی تصور ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے برخلاف عمل کرنے والا فریق توہینِ عدالت کا مرتکب قرار پائے گا، کیونکہ عدالت پہلے ہی احتجاج اور دھرنے سے متعلق حکم جاری کر چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے صوبے کی انتظامی یا سیاسی طاقت کو وفاق کے خلاف استعمال کرنے کی مجاز نہیں۔
لاہور اور وزیرآباد کا حوالہ
وزیر مملکت داخلہ نے تحریک انصاف کی "اسٹریٹ پاور” پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس کا اندازہ لاہور اور وزیرآباد کی سڑکوں پر ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں سے بخوبی لگا چکی ہے، اور یہ کہ ایسی حکمتِ عملی سے پارٹی کو کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
26 نومبر اور 9 مئی کا حوالہ
طلال چوہدری نے تحریک انصاف کی سیاسی تاریخ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا ریکارڈ 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات سے عبارت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد کسی بھی نوعیت کا احتجاج یا دھرنا دینا قانوناً ممنوع ہے، اور اگر دوبارہ اس طرح کی کوشش کی گئی تو ریاست اسے سختی سے کچل دے گی۔
پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ
وزیر مملکت نے جیل میں قید تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقاتوں کے حوالے سے کہا کہ ملاقاتیں صرف جیل کے مقررہ ضوابط کے تحت ہی ممکن ہیں، اور سڑکیں بند کرنے، احتجاج کرنے یا دھرنے دینے سے ان ملاقاتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی سیاسی و انتظامی حالات معمول پر آنے لگتے ہیں، اسی وقت اس نوعیت کے احتجاجی کھیل شروع کر دیے جاتے ہیں، تاہم ایسی حرکتوں سے پارٹی قیادت کو کوئی سیاسی سہارا نہیں ملے گا۔
گزشتہ احتجاج میں سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کا الزام
انہوں نے ماضی کے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ احتجاجوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں کچلا گیا اور گولیاں مار کر زخمی کیا گیا۔
"سومنات” کے بیان پر ردعمل
طلال چوہدری نے تحریک انصاف کے صوبائی صدر کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد کو "سومنات” بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سومنات تو تب ہی بنتا ہے جب لاشیں گرائی جائیں اور توڑ پھوڑ کی جائے، اور ایسی زبان کا استعمال غیر ذمہ دارانہ سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف کا فون، حافظ نعیم کا جواب: "لیوی بھتہ ختم کیے بغیر بات نہیں بنے گی”












