ضلع میانوالی سے سونے کے ذخائر چوری ، کتنا سونا ، کیسے چوری ہوا ؟ پنجاب اسمبلی میں تفصیلات جمع ، خیبر پختونخوا پر سونا چوری کی الزامات، حقائق کیا ہیں؟

لاہور( پنجاب پوسٹ) رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر نور نیازی نے سونا چوری ہونے کے معاملے پر توجہ دلاؤ نوٹس پر ایوان میں احتجاج ریکارڈ کروایا اور کہا کہ ضلع میانوالی میں سونے کے ذخائر دریافت ہوئے جسے ایکسیبیٹرز کے ذریعے چوری کیا گیا،  آج تک ضلع میانوالی سے چوری ہونے والے سونے میں سے ایک تولہ سونا بھی واگزار نہیں کروایا گیا۔

علی حیدر نور نیازی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور میں سونا چوری کا نوٹس لیا گیا اور ایکسیبیٹر کو روک دیا گیا، سونا اور ڈیزل چوری کرنے کےلیے خیبرپختونخواہ کاعلاقہ رحمان آباد میں 800 سے 900 ایکسیبیٹرلگائے گئے، ایک ایکسیبیٹر سے تین تولے سونا چوری ہوتا ہے،  عیسی خیل میں من پسند ایس ایچ او کی معاونت سے گندم کی سمگلنگ کی گئی، اسی ایس ایچ او کو ایس پی میانوالی لگاکر وصولیاں کی گئیں، اگر ایک جگہ پر 700 ایکسیبیٹر لگائے جائیں تو پورا شہر بنتا ہے، کرپٹ پولیس افسران ملوث نہ ہو تو پھر کوئی ایک تولہ بھی سونا چوری نہیں کر سکتا ، میں تو لوگوں پر الزام لگا رہا ہوں میرے ملک کا خزانہ لوٹا جا رہا ہے، میرا مطالبہ ہے کہ اس کی تحقیقات کی جائیں تاکہ مزید چوری رک سکے، کے پی میں پی ٹی آئی حکومت سونے کی چوری کو روکے۔ڈپٹی سپیکر نے سونا چوری کے معاملہ پر معاملہ محکمہ معدنیات اور متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے میانوالی میں چوری کرنے پر مقدمات کی تفصیلات ایوان میں پیش کردیں۔جن کے مطابق  میانوالی میں سونا چوری پر کل 64 کیسز پر مقدمات درج کئے گئے، سال 2024ء میں 12مقدمات درج ہوئے جن میں سے 77ملزمان نامزد ہوئے اور 74 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں جمع کروائے گئے، سال 2025ء میں 44مقدمات درج ہوئے جس میں 270ملزمان میں سے 266ملزمان کے چالان جمع کروائے گئے، سال 2026ء میں 7 مقدمات درج ہوئے 16ملزمان میں سے سارے ملزمان کے خلاف سب کو عدالت میں پیش کیا گیا، مجتبیٰ شجاع الرحمن کے مطابق تاحال سونے چوری ہونے کا کوئی بھی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے بعد تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی اقبال خٹک نے الزام عائد کیا کہ سونا چوری کرنے والے ارب پتی بن گئے لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔63مقدمات ان  افراد پر ہوئے جو بھتہ نہیں دیتے تھے ۔  ، اقبال خٹک کے الزام پر وزیر معدنیات شیر علی گورچانی  کا کہنا تھا کہ کافی عرصہ سے میانوالی میں سونا چوری ہو رہا تھا۔سابق وزیر اعظم پاکستان میانوالی کا گھر ہے عیسی خیل ان کے گھر سے تھوڑے فاصلہ پر ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ میانوالی میں سب سے زیادہ چوری پی ٹی آئی دور حکومت میں ہوئی۔تریسٹھ مقدمات مریم نواز دور میں ہوئے یہ اپنے دور میں ایک مقدمہ درج کا بتا دیں، شیر علی گورچانی کے مطابق کشتی میں ایکسیبیٹر کا استعمال کرکے سونا چوری کرنے کیلئے کے پی کا راستہ استعمال کیاجاتا ہے۔اگر مریم نواز دور میں سونے چوری پر ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا تو پھر عہدے سے استعفیٰ دیدوں گا، شیر علی گورچانی نے ان الزامات کے  جواب میں وزیر معدنیات کو میانوالی  آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وزیر معدنیات کو اپنے خرچہ پر دعوت دوں گا وہ آئیں حلفا کہتا ہوں ایک بھی پی ٹی آئی دور میں سونا چوری نہیں ہوتا تھا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے