لاہور (پنجاب پوسٹ)لاہور کے جنرل ہسپتال کی نیورو سرجری آؤٹ ڈور میں مریض سے جلدی سی ٹی سکین کرانے کے نام پر 3500 روپے وصول کرنے والے نوسرباز کو پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ سمیت پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق نوسرباز احمد تصور نے ایک مریض سے سی ٹی سکین جلدی کرانے کے عوض 3500 روپے وصول کیے، تاہم مذکورہ مریض کا سی ٹی سکین بعد ازاں ایمرجنسی میں مفت کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سرگودھا: نجی سکول کے جونیئر کیمپس میں پانی کی ٹینکی گرنے کا واقعہ
واقعے کا علم ہوتے ہی جنرل ہسپتال انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نوسرباز احمد تصور اور مبینہ طور پر اس کے ساتھ ملوث پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ کو پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے مبینہ گروہ کے سرغنہ احسان کی تلاش بھی شروع کردی ہے۔
ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے شہریوں اور مریضوں کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ٹیسٹ یا طبی سہولت کی فیس ادا کرتے وقت سرکاری رسید لازمی چیک کریں اور کسی غیر متعلقہ شخص کو رقم ادا نہ کریں۔
ایم ایس کا کہنا ہے کہ جنرل ہسپتال میں مریضوں اور ان کے لواحقین سے کسی بھی قسم کا فراڈ یا غیر قانونی وصولی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے یا غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













