نارووال نجی کالج میں تشدد کا مبینہ واقعہ ، پنجاب پوسٹ کی ویڈیو پر پولیس اور کالج انتظامیہ کا مئوقف

سینئر طالبات نے خشت باری کا بندوبست کر رکھا تھا ، ایکشن لیا ، کالج انتظامیہ،15 پر کال پر ایکشن لیا ، حالات کنٹرول میں ہیں ، نارووال پولیس

ناروال ( پنجاب پوسٹ) گذشتہ روز ناروال کے نجی کالج میں طالبات پر تشدد کے حوالے سے پنجاب پوسٹ کو ویڈیو موصول ہوئی ۔ جو کہ کالج انتظامیہ اور ناروال پولیس کے ساتھ شئیر کی گئی ۔

تشدد کے الزامات پر کالج  ایم ایس بریگیڈئیر (ر) غلام نبی  کے مطابق  گذشتہ روز سیکنڈ ائیر اور فائنل ائیر کی طالبات کے مابین معمولی بات پر جھگڑا ہوا اور معافی نہ مانگنے پر معاملہ طول پکڑ گیا ۔ جس پر کالج انتظامیہ نے طالبات کے دونوں گروپوں کے درمیان چپقلش کو بڑھنے سے روکنے اور کسی بڑے نقصان سے بچنے کیلئے فوری سخت اقدامات کئے ۔

ایم ایس نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ سینئر طالبات نے جونئیر طالبات پر خشت باری کا خفیہ بندوبست کر رکھا ہے ، جس پر ہسپتال کے لیڈیز اور مرد سیکورٹی اسٹاف نے بروقت ایکشن لیا اور ناخوشگوار صورتحال پر قابو پالیا۔

بریگیڈیر(ر) غلام نبی نے دعویٰ کیا کہ سینئر  طالبات نے اپنی منصوبہ بندی ناکام ہوتے دیکھ کر فیک اور ایڈٹ شدہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر کردیں جبکہ سی سی ٹی وی ویڈیوز میں دیکھا ساسکتا ہے کہ طالبات کیسے ایم ایس اورلیڈیز گارڈز پر حملہ آور ہو رہی ہیں؟ کالج انتظامیہ نے معاملات ڈسپلنزی کمیٹی کے سپرد کردیا اور طالبات کو فوری گھروں کو بھیج  دیا گیا تاکہ حالات پر کنٹرول رکھا جاسکے۔

اس دوران ناروال پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے پنجاب پوسٹ کو وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز نجی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی طالبات کے درمیان ریگنگ کی وجہ سے جھگڑا ہوا ، جس پر سینئر طالبات نے جونئیر کا میس بند کردیا ، جس پر کالج انتظامیہ نے 15 سینئر طالبات کو تین ماہ کیلئے کالج سے سسپنڈ کردیا اور ہاسٹل سے Expel کردیا ، پیر کی شب ثمن نامی طالبہ نے 15 پر کال کی کہ مجھے سینئر طالبات ہراساں کر رہی ہیں اور میں نے اپنے آپکو کمرے میں بند کر رکھا ہے ، جس پر پولیس ہسپتال گیٹ پر پہنچی تو کالج انتظامیہ لڑکی کو ہاسٹل سے باہر لے آئی ہوئی تھی جس کو اسکے والد محمد اشرف سکنہ چک شہزاد اسلام آباد کے حوالے کردیا گیا ۔ اس دوران سینئر طالبات نے پولیس سے ایم ایل سی کروانے کو مطالبہ کیا ۔ جنہیں  ڈی ایچ کیو ہسپتال لے جائے گیا

ناروال پولیس کے مطابق انہیں تاحال طالبات کیطرف سے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے اور نہ ہی کالج انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کیلئے کوئی شکایت کی گئی ہے ، تاہم کالج انتظامیہ نے جن طالبات کو ایکسپل کیا تھا ۔ انہوں نے متعلقہ اتھارٹی سے نظر ثانی کیلئے رجوع کرلیا ہے ۔ پولیس حکام کے مطابق علاقے میں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے