لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ میں ایک شہری کی جانب سے شور شرابے اور پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اسے تحویل میں لے لیا۔ واقعے کے باعث ہائیکورٹ کے احاطے میں کچھ دیر کے لیے صورتحال غیر معمولی ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق تیزاب احاطہ لاہور کے رہائشی محمد گلزار نامی شہری ہائیکورٹ پہنچا، جہاں اس نے سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس سے تلخ کلامی کی۔ شہری نے پولیس اہلکاروں کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ "آئی جی سے کہہ کر تمہیں نوکری سے نکلوا دوں گا۔”
محمد گلزار نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک سیاسی رہنما ہے اور پاکستان آزاد پارٹی اس کی اپنی جماعت ہے۔ شہری کا کہنا تھا کہ وہ ایم ایس جنرل ہسپتال کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے آیا ہے۔
شہری نے الزام عائد کیا کہ ایم ایس جنرل ہسپتال نے اسے غیر قانونی طور پر حوالات میں بند کرایا، جس کے خلاف وہ عدالت سے رجوع کرنے کے لیے ہائیکورٹ پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھین:پنجاب میں کم عمر کی شادی، لڑکی کی مرضی کے باوجود عدالت نے اہم ریمارکس کیوں دئیے؟
صورتحال کو دیکھتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ سکیورٹی نے محمد گلزار کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شہری کا ذہنی توازن درست نہیں لگتا، تاہم اس حوالے سے حتمی بات متعلقہ حکام کی جانب سے جائزے کے بعد ہی سامنے آسکتی ہے۔














