لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور کے علاقے ڈیفنس اے تھانے میں شہری سے مبینہ بدسلوکی اور تشدد کا معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ان کی 22 سالہ بیٹی ڈیفنس اے کے علاقے میں گھریلو ملازمہ ہے، جس پر 16 اپریل کو مالکان کی جانب سے چوری کا الزام لگایا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس لڑکی کو تھانے لے گئی حالانکہ اس نے کوئی چوری نہیں کی تھی۔خاندان نے الزام عائد کیا کہ جب وہ بچی سے ملاقات کے لیے تھانے پہنچے تو پولیس نے اس کے والد اور بھائی کو بھی حراست میں لے لیا اور مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں معاملے سے متعلق کوئی واضح معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
خاندان نے الزام عائد کیا کہ جب وہ بچی سے ملاقات کے لیے تھانے پہنچے تو پولیس نے اس کے والد اور بھائی کو بھی حراست میں لے لیا اور مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں معاملے سے متعلق کوئی واضح معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
واقعے کی تحقیقات ایس پی کینٹ کے سپرد کر دی گئی ہیں اور انہیں 24 گھنٹوں میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ پولیس حراست میں تشدد، بدسلوکی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تھانوں میں شہریوں کے ساتھ عزت اور قانون کے مطابق سلوک یقینی بنایا جائے گا۔














