لاہور(پنجاب پوسٹ)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نئے صوبے بنانے کے حق میں ہے، تاہم صوبوں کے قیام کا معاملہ عوامی خواہشات اور آئینی و جمہوری طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اتنی فائلیں موجود ہیں کہ جب چاہے ان سے صوبہ بنوا سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی پر اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بنائے گئے لیڈرز پہلے بھی مقبول تھے اور آج بھی مقبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف مقبول تھے، جبکہ آج عمران خان مقبول ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عمران خان کی مقبولیت کے باوجود جماعت اسلامی نے کراچی میں الیکشن جیتا۔ ان کے مطابق کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے بعض اراکین بھی بک گئے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مولانا فضل الرحمان سے متعلق کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے بہتر ڈیل کرلیتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انہیں کراچی کے ڈپٹی میئر کی نشست کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اسے “Absolutely not” کہہ کر مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت کراچی کے تین ہزار ارب روپے سے زائد کھا گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے وسائل اور عوام کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے اور شہر کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جانے چاہئیں۔














