مال روڈ(پنجاب پو سٹ)لاہور پر جماعت اسلامی کے دھرنے کے سولہویں روز امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں، بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور تاجروں کو درپیش مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ضیا الدین انصاری نے کہا کہ ملک بھر بالخصوص لاہور میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ضیا الدین انصاری کے مطابق بجلی کی موجودہ صورتحال کے باعث ملکی معیشت کو ڈیڑھ سو سے دو سو ارب روپے تک نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی تقریباً چار فیصد کمی کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز سے 49 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود ملک کی طلب تقریباً 22 ہزار میگاواٹ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام ایسی بجلی کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں جو استعمال نہیں ہو رہی۔
امیر جماعت اسلامی لاہور نے دعویٰ کیا کہ ملک میں تقریباً چار ہزار میگاواٹ بجلی کا شارٹ فال ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں چار گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت ملک میں بڑھ رہی ہے اور عام آدمی ٹیکس، پیٹرول کی قیمتوں اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں مسلسل بوجھ برداشت کر رہا ہے، جبکہ ان کے بقول بڑے وڈیرے، سرمایہ دار اور جاگیردار ٹیکسوں کے نظام میں مطلوبہ حصہ ادا نہیں کرتے۔
انہوں نے زراعت کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی ریلیف یا روٹی کی قیمت میں کمی کی بات پر بھی نان بائی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں، لیکن حکومت غریب عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔
ضیا الدین انصاری نے بتایا کہ کوئٹہ میں جماعت اسلامی کے دھرنے کا آج تیسرا دور جاری ہے، جبکہ گزشتہ روز لیاقت باغ راولپنڈی میں انہیں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی نے 3 ستمبر کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے اور تاجر رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں، جو ہڑتال کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔
تاجروں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ضیا الدین انصاری نے الزام عائد کیا کہ پیرا فورس کی جانب سے تاجروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاجروں کو پرامن ماحول میں کاروبار کرنے دیا جائے اور جماعت اسلامی تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق آج بھی تاجر رہنماؤں سے ملاقات کرکے ان کی حمایت حاصل کی جائے گی۔
ضیا الدین انصاری نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دھرنا 116 دن تک بھی جاری رکھنا پڑا تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے حکومت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے پاس آئے تو وہ بتائیں گے کہ بھتہ اور لیوی جیسے اضافی بوجھ کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری افسران اور ججز اپنی مراعات میں کمی کریں اور سادگی اختیار کرتے ہوئے 1300 سی سی گاڑیاں استعمال کریں، تاکہ حکومتی اخراجات میں کمی اور عام عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔














