لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور سمیت پنجاب کی جیلوں میں 73 ہزار سے زائد قیدیوں کی حفاظت کے لیے فائر سیفٹی کے انتظامات کا جامع آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئی جی جیل میاں سالک جلال نے پنجاب بھر کے جیل سپرنٹنڈنٹس کو مراسلہ جاری کردیا، سول ڈیفنس کی ٹیمیں تمام جیلوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کریں گی۔
مراسلے کے مطابق جیلوں میں فائر فائٹنگ آلات، الارم سسٹم اور ایمرجنسی ایگزٹ کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ جیل ہسپتال، کچن، ورکشاپ، اسٹور اور بیرکس میں فائر ایکسٹیگوئشرز کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے۔
ناقص، ایکسپائر یا خراب فائر سیفٹی آلات فوری طور پر تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس حوالے سے کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے تعاون سے جیلوں کے لیے جامع ایمرجنسی پلان بھی تیار کیا جائے گا۔ جیل اسٹاف کو فائر فائٹنگ اور ہنگامی انخلاء کی تربیت دی جائے گی جبکہ وقتاً فوقتاً ایمرجنسی ڈرلز بھی کرائی جائیں گی۔
جیل عملے کو فائر ایکسٹیگوئشرز کے درست استعمال سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ سول ڈیفنس ٹیموں کی جانب سے نشاندہی کی جانے والی خامیوں پر فوری عملدرآمد کرکے رپورٹ آئی جی جیل کو جمع کرائی جائے گی۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر فائر سیفٹی آڈٹ رشید احمد کو اس پورے عمل کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ تمام جیل سپرنٹنڈنٹس کو سول ڈیفنس ٹیموں سے مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔
آئی جی جیل میاں سالک جلال نے واضح کیا ہے کہ جیلوں میں فائر سیفٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔














