اگر سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے بچوں کا علاج بھی پمز جیسے سرکاری ہسپتالوں میں لازم قرار دے دیا جائے تو نظام بہتر ہو سکتا ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

اسلام آباد(پنجاب پوسٹ) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے، ایسے واقعات اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک سب کے لیے صحت کا ایک جیسا نظام نہیں ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اگر سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے بچوں کا علاج بھی پمز جیسے سرکاری ہسپتالوں میں لازم قرار دے دیا جائے تو نظام میں بہتری آسکتی ہے۔ جن ہسپتالوں میں غریبوں کے بچے علاج کے لیے جاتے ہیں، وہاں ہمارے اور آپ کے بچے بھی جانے چاہئیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب تک صاحبِ اختیار طبقے کے بچے بھی انہی سرکاری ہسپتالوں میں علاج نہیں کروائیں گے، صحت کا نظام درست نہیں ہوگا۔ صرف سماجی انصاف کی باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، غریب اور امیر کے لیے صحت کی سہولیات یکساں کرنا ہوں گی۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اگر ہم غریب کو اچھی زندگی اور اس کے محلے میں علاج کی سہولت نہیں دے سکتے تو ہماری تمام ترقی بے معنی ہے۔ ہر غریب انسان کو اپنے محلے میں ایسا کلینک ملنا چاہیے جہاں وہ اپنے والدین اور بچوں کا علاج کرا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پمز میں 14 بچوں کی اموات کا واقعہ ہمیں ہیلتھ سسٹم کی خامیوں کو دور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ پیغام صرف میرا نہیں بلکہ وزیراعظم کا بھی پیغام ہے کہ صحت اور تعلیم کے نظام میں بہتری لانا ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صحت اور تعلیم کا انقلاب اب مختلف شعبوں کی مشترکہ ترقی سے ہی ممکن ہے۔ نینو ٹیکنالوجی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، طبی علوم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں، اس لیے صحت اور تعلیم کو الگ الگ شعبوں کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے تحقیق، ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ جس بچے کو صاف پانی میسر نہیں، وہ انسانی ترقی کے ثمرات سے محروم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے صاف پانی پیتے ہیں لیکن ملک کے لاکھوں بچے آج بھی صاف پانی سے محروم ہیں۔ اگر ایک بچہ نل کھول کر صاف پانی نہیں پی سکتا تو ہماری ترقی کے دعوے ادھورے ہیں، غریب کے بچے کو صاف پانی، صحت اور تعلیم کی سہولت دینا ہی حقیقی انسانی ترقی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے