لاہور(پنجاب پوسٹ) سنٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کےہیڈ آفس میں بورڈ آف گورنرز کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں سنٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کی گزشتہ پانچ ماہ کی کارکردگی، انتہا پسندی کے تدارک کیلئے اقدامات اور کمیونیکیشن سٹریٹیجی کا جائزہ لیا گیا، جبکہ بورڈ نے ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سنٹر آف ایکسیلینس کے افسران نے انتہا پسندی کے تدارک کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے آگاہی سیمینارز کے انعقاد کی ہدایت بھی کی گئی۔
اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے تیسرے اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی اور گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ سنٹر آف ایکسیلینس کے رولز کی ڈرافٹنگ اور کمیونیکیشن سٹریٹیجی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور دیگر افسران نے سنٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے ہیڈ آفس اور ویب سائٹ کا افتتاح بھی کیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں سنٹر آف ایکسیلینس انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے، حکومت پنجاب شدت پسندی کے خاتمے اور پُرامن معاشرے کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے سنٹر فار ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کا قیام انتہائی خوش آئند اقدام ہے، ادارے کے تحت انتہا پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ معاشرے میں امن، رواداری اور برداشت کے فروغ میں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کا کلیدی کردار ہے۔ سنٹر فار ایکسیلینس معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے شدت پسندی کے خاتمے کیلئے متحرک ہے، روشن، پُرامن اور خوشحال پاکستان کی تشکیل میں تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اجلاس میں سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی، چیف کوآرڈی نیشن آفیسر سی او ای سی وی ای غلام صغیر شاہد، ایڈیشنل آئی جی محمد علی نیکوکارہ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سمیت دیگر افسران نے شرکت کی، جبکہ وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔














