لاہور (پنجاب پوسٹ) ٹریفک پولیس نے ڈیفنس موڑ پر ٹریفک کے دیرینہ مسائل کے حل اور روڈ انجینئرنگ کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تیز کردیئے۔ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ڈیفنس موڑ کا دورہ کیا اور موقع پر جاری روڈ ری ڈیزائننگ، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر اقدامات کا جائزہ لیا۔
سی ٹی او لاہور نے کہا کہ ڈیفنس موڑ پر ٹرننگ لین کو 22 فٹ سے بڑھا کر 33 فٹ تک کردیا گیا ہے، جس سے گاڑیوں کے گزرنے کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ مجوزہ روڈ انجینئرنگ کے بعد ڈیفنس موڑ سے فی گھنٹہ گزرنے والی گاڑیوں کی گنجائش 6 ہزار سے بڑھ کر 9 ہزار گاڑیوں تک پہنچ جائے گی۔
سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق روڈ انجینئرنگ میں بہتری کے بعد ڈیفنس موڑ پر گاڑیوں کی اوسط رفتار بھی 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 40 سے 45 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک کی روانی بہتر ہونے سے گاڑیوں کی قطاروں کی لمبائی بھی کم ہورہی ہے۔ پہلے جہاں گاڑیوں کی لائنز 400 سے 600 میٹر تک پہنچ جاتی تھیں، اب ان کی لمبائی کم ہوکر 100 سے 150 میٹر تک آرہی ہے۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق روڈ انجینئرنگ اور جدید ٹریفک مینجمنٹ اقدامات مکمل ہونے کے بعد شہریوں کا ڈیفنس موڑ سے کراسنگ ٹائم 85 سے 110 سیکنڈ سے کم ہوکر 45 سے 60 سیکنڈ تک رہ جائے گا، یعنی شہری تقریباً ایک منٹ میں موڑ کراس کرسکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے بہتر انتظام سے مسافروں کے مجموعی سفر کے وقت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ ڈیفنس موڑ پر ٹریول ٹائم 5 سے 6 منٹ سے کم ہوکر 2 سے 3 منٹ تک رہنے کی توقع ہے۔
سی ٹی او لاہور نے مزید کہا کہ ٹریفک مینجمنٹ کے اقدامات سے شہریوں کو تیز، محفوظ اور ہموار سفر کی سہولت ملے گی جبکہ مسلسل ٹریفک جام اور گاڑیوں کے غیر ضروری انتظار میں کمی سے ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوگی۔
سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق ٹریفک کنجیشن کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کا یومیہ اخراج 6.4 ٹن سے کم ہوکر 3.2 ٹن رہ جائے گا۔ جدید ٹریفک ریشنلائزیشن کے ذریعے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ شہریوں کے سفر کا وقت اور ایندھن بھی بچے گا۔














