کیا بانی تحریک انصاف کے بیٹوں نے ویزے کیلئے حکومت پاکستان سے رجوع کیا؟ کیا انہیں پاکستان آنے کیلئے ویزے کی ضرورت ہے؟ پنجاب پوسٹ حقائق سامنے لے آیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں نے سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان جانے کیلئے متعدد بار ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ویزہ نہیں دیا جا رہا، ہمیں ویزہ ملے تو ہم اپنے والد کو دیکھنے کیلئے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔

کیا قاسم اور سلمان کو پاکستان آنے کیلئے ویزے کی ضرورت ہے؟

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو پاکستان آنے کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دونوں کے پاس NICOPs موجود ہیں اور وہ پاکستانی شہریوں کی حیثیت سے کسی بھی دن پاکستان آ سکتے ہیں۔ پنجاب پوسٹ کے پاس دستیاب معلومات کے مطابق سلیمان خان نیازی کا NICOP نمبر 35202-273-22XX-1 ہے جو 6-1-2030 تک کارآمد ہے۔ اور قاسم خان کا NICOP نمبر 35202-782-76XX-1 ہے جو 8-11-2032 تک کارآمد ہے۔

حکومت پاکستان کا موقف کیا ہے؟

حکومتِ پاکستان نے مارچ میں عوامی طور پر یہ بات واضح کی تھی اور تصدیق کی تھی کہ وہ پاکستانی قوانین کے تابع پاکستان آنے کے لیے خوش آمدید ہیں۔مارچ 2026 میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح طور پر کہا تھا کہ عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم خان NICOP کے ذریعے پاکستانی شہریوں کی حیثیت سے پاکستان آ سکتے ہیں اور انہیں ویزا درکار نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں کو پاکستان میں قیام کے دوران پاکستانی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔

ویزہ کا جھوٹ کیوں بولا جارہا ہے؟

مختلف مغربی میڈیا پلیٹ فارمز پر قاسم اور سلمان کا دعویٰ ہے کہ ان کے NICOPs کی مدت ختم ہو چکی تھی، لیکن پنجاب پوسٹ کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق انکے کارڈز اگلے چار برس تک کارآمد ہیں۔

پنجاب پوسٹ فیکٹ چیک نے گذشتہ دو سال کے ٹی وی انٹرویوز کا جائزہ لیا،جس میں دونوں بھائیوں کے بیانات کے محض سیاسی مقاصد ہی محسوس ہوتے ہیں۔ دونوں بظاہر پاکستان کے قوانین سے بچنے کے لیے اپنی برطانوی شناخت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

متعدد سیاسی تجزیہ کاروں کے سامنے جب یہ سوال رکھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا مقصد واقعی صرف اپنے والد سے ملاقات تک محدود ہے تو سیدھا راستہ پہلے ہی موجود ہے — اپنے NICOPs استعمال کریں، پاکستان کا سفر کریں اور پاکستانی قوانین کی پابندی کریں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے باوجود، ان کی مہم ایک مغربی پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کے قانونی نظام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کی سفارتی کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایک سزا یافتہ سیاسی رہنما کے گرد عالمی سطح پر مظلومیت کا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یزا اصل مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ مغربی میڈیا میں پاکستان کے خلاف ایک جھوٹا بیانیہ پھیلانا ہے۔

حقیقت : قاسم اور سلمان کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے