لاہور (پنجاب پوسٹ) صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، صرف نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب حکومت نوجوانوں کو کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
سپیریئر یونیورسٹی اسکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور سینٹر فار کری ایٹو آرٹس کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آج ایک خوشگوار اور خوبصورت دن ہے، ایسے مواقع کم ملتے ہیں جہاں آرٹ اور آرکیٹیکچر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے، ہمارے بچے بہت ٹیلنٹڈ ہیں، یہ کہنا کہ ملک میں ٹیلنٹ نہیں، بالکل غلط ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ جتنا ٹیلنٹ پاکستان میں موجود ہے شاید دنیا میں کہیں نہیں، فیشن، آرٹ اور دیگر تخلیقی شعبوں میں ہمارے نوجوان بہترین کام کر رہے ہیں۔ اسکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن نے تعلیم اور مارکیٹ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے، ایکسپو کے ذریعے طلبہ کا کام براہِ راست انڈسٹری سے وابستہ لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ طلبہ نے انتہائی محنت سے شاندار اور تخلیقی کام تیار کیا ہے، دنیا میں اس نوعیت کے کام کی بڑی قدر ہے اور یہی کام عالمی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے۔ فیشن ڈیزائنرز اور دیگر تخلیقی شعبوں سے وابستہ نوجوانوں کے لیے ایسے پلیٹ فارمز روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ انتہائی اہم ہے۔ طلبہ کے تخلیقی کام کو براہِ راست انڈسٹری تک پہنچانا قابلِ تحسین اقدام ہے، اس سے نوجوان اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے خود بھی روزگار فراہم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی 14 تحصیلوں کو نئے تحصیلدار مل گئے، امتحانات میں کون کون کامیاب ہوا؟
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رواں سال کو نوجوانوں کا سال قرار دیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے متعدد اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، آسان کاروبار اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ انٹرپرینیور بن سکیں اور اپنے مستقبل کو خود سنوار سکیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی ڈگریاں حاصل کرنی چاہئیں جو ہنر اور عملی زندگی سے جڑی ہوں۔ بعض بچے ایسی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں جن کا کوئی واضح پروفیشن نہیں ہوتا، بعد میں روزگار کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ والدین بڑی محنت اور قربانی سے بچوں کو پڑھاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان اپنی تعلیم اور محنت کو ضائع نہ ہونے دیں۔ ہنرمند اور بامقصد ڈگریاں حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو کاروبار اور عملی میدان میں استعمال کریں۔
عظمیٰ بخاری نے طلبہ کے والدین کو بھی شاباش دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے میں والدین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ نوجوان اگر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کریں تو نہ صرف اپنے لیے بہتر مستقبل بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کو کاروبار کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کی ڈگریاں صرف کاغذ کا ٹکڑا نہ بنیں بلکہ انہیں عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں۔











