لاہور ( پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے ماحول اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے حوالے سے 8 سال سے زیرِ سماعت مفادِ عامہ کے تاریخی کیس کا مفصل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی جانب سے سال 2018 میں دائر کی جانے والی درخواست پر 288 صفحات پر مشتمل یہ اہم فیصلہ تحریر کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران ہائیکورٹ کی مسلسل نگرانی اور احکامات کے نتیجے میں لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح مستحکم ہو چکی ہے اور پانی کی مزید کمی کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہے۔عدالت نے پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنے اور اس کی ری سائیکلنگ سے متعلق اہم پیشرفت رپورٹ فیصلے کا حصہ بنائی ہے ۔
سروس اسٹیشنز: لاہور کے 563 سروس اسٹیشنز پر واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس فعال کر دیے گئے ہیں، جس سے فی گاڑی 280 لیٹر صاف پانی کی بچت ہو رہی ہے۔
رہائشی قوانین: 10 مرلہ اور 1 کنال سے بڑے تمام مکانات کے لیے ‘گرے واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ’ کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے۔پنجاب بھر میں بغیر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے کسی بھی تجارتی عمارت کے نقشے کی منظوری پر مکمل پابندی عائد ہو چکی ہے۔
گولف کورسز پر پابندی: روئل پام اور لاہور جمخانہ سمیت تمام اہم کلبز میں گولف کورسز کی آبیاری کے لیے زیرِ زمین پانی نکالنے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
وضو کے پانی کا استعمال: داتا دربار سمیت پنجاب کی 194 مساجد میں وضو کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ری سائیکلنگ ٹینکس فعال کر دیے گئے ہیں۔ صرف داتا دربار پروجیکٹ سے روزانہ 60 سے 70 ہزار گیلن پانی پارکس کی آبیاری کے لیے محفوظ کیا جا رہا ہے۔
نہری کھالوں کی بحالی: لاہور کینال کے 35 سال سے بند 19 نہری کھالے بحال کر دیے گئے ہیں، جس سے گورنر ہاؤس، ایچیسن کالج، باغ جناح، ماڈل ٹاؤن اور ریس کورس پارکس کو نہری پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔صارف ادا کرے
پالیسی: زیرِ زمین پانی کے تجارتی استعمال پر ‘Aquifer Charges’ کی مد میں 2018 سے اب تک 3.35 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی جا چکی ہےشہر کو بارش کے پانی سے سیراب کرنے اور فلڈ مینجمنٹ کے لیے متعدد پروجیکٹس مکمل کیے گئے ہیں











