پولیس اہلکار، انتظامیہ، سب سیدھے ہوجائیں، افسران ماتحتوں اور عوام افسران پر نظر رکھیں، ڈی سی وہاڑی نے ضلعی انتظامیہ کی نگرانی کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا

وہاڑی(پنجاب پوسٹ) ڈپٹی کمشنر خالد جاوید گورائیہ کی زیرِ صدارت انسدادِ رشوت ستانی مہم کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری محکموں میں شفافیت، میرٹ اور کرپشن کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے سمیت رشوت ستانی کے خلاف کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر خالد جاوید گورائیہ نے کرپشن کے خاتمے کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے شفاف نظام قائم کرکے کرپشن اور رشوت سے پاک پنجاب بنانے کا عزم ہے۔ سرکاری امور میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے جبکہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے، اس کے خاتمے کیلئے تمام محکموں کو اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔
خالد جاوید گورائیہ نے کہا کہ اسلام میں رشوت اور بدعنوانی کی سختی سے ممانعت ہے جبکہ حلال رزق اور دیانت داری اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔ افسران اور اہلکار اپنے فرائض ایمانداری، ذمہ داری اور خوفِ خدا کے ساتھ انجام دیں۔

ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ماتحت ملازمین کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں اور دفاتر کے حوالے سے عوام سے باقاعدگی سے فیڈبیک حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن سرکاری دفاتر کے ساتھ عوام کا زیادہ رابطہ ہوتا ہے وہاں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو بہتر اور شفاف خدمات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی اہلکار رشوت ستانی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اجلاس میں اے ڈی سی ریونیو صبا سحر، اے ڈی سی میونسپل سروسز غلام مرتضیٰ، اے سی وہاڑی انعم اکرم، ڈی ڈی پی آر میاں نعیم عاصم، ڈی ڈی ڈویلپمنٹ محمد افضال، ایس این اے منیب احمد سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے