راولپنڈی ( پنجاب پوسٹ) سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات کی تردید کردی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی صبح لاک اَپ کھلنے کے بعد سے شام تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی یا کسی بھی قیدی کو تنہائی میں نہیں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بانی چیئرمین سے ملاقات میں استعفیٰ دے دوں گا، سلمان اکرم راجا کا اعلان
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل قواعد کے مطابق ہر منگل کو اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے ملاقات کی بھی اجازت ہے۔بانی پی ٹی آئی کی جیل میں قید تنہائی کے خلاف درخواست کی سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس خادم حسین سومرو کریں گے۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں، عام قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی، وہ 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جیل کے ڈاکٹر ہر روز تین بار ان کا معائنہ کرتے ہیں اور ان کے کھانے کی جانچ کرتے ہیں، ڈاکٹرز بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے ہیں اور انہیں آگاہ بھی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی، بانی کے منتخب کردہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے، بانی پی ٹی آئی کو قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے۔سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں درخواست کی گئی ہے کہ درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات بے بنیاد ہیں لہٰذا درخواست مسترد کی جائے۔
مزید پڑھیں :













