لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے گارڈین عدالت کی جانب سے بچی کو والد کے حوالے نہ کرنے پر والدہ کی گرفتاری کے حکم کے خلاف دائر اپیل پر گارڈین کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے سدرہ اسحاق مغل کی جانب سے گارڈین عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گارڈین عدالت نے حقائق کے برعکس والدہ کی گرفتاری اور بارہ سالہ بچی افضاء کو والد کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا۔ درخواست کے مطابق سدرہ اسحاق مغل کی اپنے سابق شوہر عدنان بٹ سے 2017 میں طلاق ہوئی تھی، جبکہ گارڈین عدالت نے 23 جولائی کو والدہ کی دوسری شادی کی بنیاد پر بچی کو والد کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ عدالتی حکم کے بعد بچی شدید بیمار ہو گئی، جس پر گارڈین عدالت نے عارضی طور پر بچی کو والدہ کے پاس رکھنے کی اجازت دی۔ تاہم چند روز بعد سابق شوہر نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا، حالانکہ بچی اس وقت تک مکمل صحت یاب نہیں ہوئی تھی۔
درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ گارڈین عدالت کی جانب سے گرفتاری اور بچی کی حوالگی سے متعلق حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔
ابتدائی سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے گارڈین عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور جواب طلب کر لیا۔












