لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طارق خورشید خواجا نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالتی افسران کو اپنی ذاتی، مونیٹائزڈ گاڑیوں پر گرین رجسٹریشن نمبر پلیٹ، نیلی بتی اور کسی بھی ایسی علامت کے استعمال سے روک دیا ہے جس سے گاڑی سرکاری معلوم ہو۔ جاری کردہ مراسلے کے مطابق مونیٹائزیشن کے بعد بعض عدالتی افسران کی گاڑیاں بدستور سرکاری گاڑیوں کا تاثر دے رہی تھیں، جس پر سیشن جج نے سختی سے نوٹس لیا اور واضح ہدایات جاری کیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی افسران اپنی گاڑیوں پر گرین رجسٹریشن یا سرکاری گاڑی کی شناخت ظاہر کرنے والی پلیٹ استعمال نہیں کر سکیں گے، اور گاڑیوں پر لاہور ہائیکورٹ یا پنجاب ڈسٹرکٹ جوڈیشری کا مونوگرام، لوگو، مہر، اسٹیکر یا بیج بھی نصب نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح ججز اپنی گاڑیوں پر کوئی سرکاری نشان، جھنڈا یا ایسی کوئی تحریر بھی درج نہیں کر سکیں گے جس سے گاڑی کے سرکاری ہونے کا تاثر ملے۔ مزید یہ کہ مونیٹائزڈ گاڑی پر بلیو لائٹ، بیکن، گھومنے والی لائٹ یا فلیشر لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ گاڑی کے اندر بلیو لائٹ یا ایمرجنسی لائٹ رکھنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ ججز روسٹر، 31 اکتوبر تک 30 ججز کن مقدمات کی سماعت کریں گے ؟
اس کے علاوہ عدالتی افسران اپنی گاڑی پر اپنے عہدے یا جوڈیشل آفیسر کی حیثیت ظاہر کرنے والی کوئی تحریر بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا کہ مونیٹائزیشن کے بعد گاڑی ہر مقصد اور ہر لحاظ سے نجی اور ذاتی گاڑی تصور ہوگی، اور مونیٹائزڈ گاڑی کی ظاہری شکل کسی بھی صورت میں سرکاری گاڑی کی نشاندہی یا تاثر نہیں دے گی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے مزید ہدایت کی کہ اگر کسی عدالتی افسر کی جانب سے اس حکم کی خلاف ورزی کی گئی تو معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور خلاف ورزی کا معاملہ متعلقہ اتھارٹی کو باقاعدہ رپورٹ کیا جائے گا۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے لاہور کے تمام جوڈیشل افسران کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا یہ حکم نامہ باضابطہ طور پر بھجوا دیا گیا ہے۔












