لاہور( پنجاب پوسٹ ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال سے منسلک تنازع ایک بار پھر عدالت پہنچ گیا، جہاں لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ 80 لاکھ روپے امانت میں خیانت کے مقدمے کے اندراج سے متعلق اہم پیش رفت کرتے ہوئے جسٹس آف پیس کا حکم تاحکمِ ثانی معطل کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عبہر گل خان نے رمشا اقبال کی درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے قانونی نکات ابتدائی طور پر توجہ طلب ہیں، اس لیے مزید سماعت تک جسٹس آف پیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کا حکم معطل کیا جاتا ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے ثاقب چدھڑ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : ماجد ستی قتل کیس: فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا، کمرہ عدالت سے گرفتار
درخواست گزار کے مؤقف کے مطابق ثاقب چدھڑ نے 80 لاکھ روپے امانت میں خیانت کے الزام میں مقدمہ درج کرانے کے لیے جسٹس آف پیس سے رجوع کیا تھا، جس پر جسٹس آف پیس نے مبینہ طور پر دوسرے فریق کا مؤقف سنے بغیر مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ حکم قانونی تقاضوں کے برعکس ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی کہ جسٹس آف پیس کے فیصلے کو منسوخ کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ نے فی الحال مقدمہ درج کرنے کے حکم کو معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ کیس میں اٹھائے گئے قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ آئندہ سماعت پر لیا جائے گا۔ یہ عبوری حکم ہے اور مقدمے کے حقائق یا کسی بھی فریق کی ذمہ داری سے متعلق حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔








