لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب میں پری سموگ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے، ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 101 یونٹس مسمار کر دیے گئے۔ یکم سے 12 ستمبر کے دوران صوبے بھر میں 96 اینٹوں کے بھٹے مسمار، 48 سیل اور 57 مقدمات درج کیے گئے۔
اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی کے دوران 3 ہزار 821 بھٹوں کا معائنہ کیا گیا اور خلاف ورزیوں پر 71 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ صنعتی یونٹس بھی ماحولیاتی اداروں کے ریڈار پر ہیں، جہاں 5 یونٹس مسمار، 118 سیل اور 11 مقدمات درج کیے گئے۔ صنعتی آلودگی پھیلانے والے 2 ہزار 206 یونٹس کی چیکنگ کے دوران ایک کروڑ 12 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
گوجرانوالہ میں غیرقانونی پائرولیسس پلانٹس کے خلاف بڑا آپریشن کیا گیا، جس کے دوران 10 سے زائد پلانٹس مسمار اور بڑی مقدار میں کاربن بیگز ضبط کرکے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے حوالے کر دیے گئے۔ سیالکوٹ میں موٹروے کے اطراف قائم اینٹوں کے بھٹوں سے بھی بھاری مقدار میں کاربن ضبط کیا گیا۔
ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے کہا ہے کہ ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر زیرو ٹالرنس پالیسی جاری ہے اور سیل کیے گئے یونٹس کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دھواں اور گردوغبار پھیلانے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور پری سموگ آپریشن میں کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔
پلاسٹک قوانین کی خلاف ورزی پر بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ صوبے میں 17 ہزار 508 کلو ممنوعہ پلاسٹک ضبط جبکہ 142 مقامات سیل کیے گئے۔ پلاسٹک قوانین کی خلاف ورزی پر 12 لاکھ 70 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور 2 ہزار 213 مقامات کی انسپیکشن کی گئی۔
فیوگیٹو ڈسٹ کے خلاف کارروائی کے دوران 61 علاقوں کا معائنہ، 11 مقامات سیل اور 41 نوٹس جاری کیے گئے۔ ریسٹورنٹس اور کمرشل کچنز بھی ماحولیاتی کارروائیوں کی زد میں ہیں، جہاں سکشن ہڈز کے 1199 معائنے کیے گئے اور 248 مقامات سیل کیے گئے۔ کچن کے دھوئیں پر قابو پانے کے لیے 233 سکشن ہڈز نصب کرائے گئے جبکہ خلاف ورزی پر 7 لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
عبداللہ نیر شیخ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی قوانین توڑنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ نوٹس کے باوجود خلاف ورزی جاری رکھنے پر یونٹس سیل اور مسمار کیے جائیں گے۔ سموگ سے پہلے آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف پنجاب بھر میں فیصلہ کن انفورسمنٹ آپریشن جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس اور غیرقانونی پائرولیسس پلانٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ پری سموگ ایکشن میں کاروباری مفادات ماحولیاتی قوانین پر حاوی نہیں ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیلنگ، مسماری اور مقدمات کا سلسلہ جاری رہے گا۔













