لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان نے سی ٹی او آفس لاہور کا دورہ کیا جہاں چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے انہیں شہر کے ٹریفک نظام، انفراسٹرکچر اور جدید ٹریفک مینجمنٹ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
سی ٹی او لاہور نے وزیر ٹرانسپورٹ کو سمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، راستہ ایپ، ای چالاننگ، لائسنسنگ، مانیٹرنگ اور سروس انفراسٹرکچر سمیت مختلف منصوبوں سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور میں 81 لاکھ سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں اڑھائی لاکھ رکشے اور دو لاکھ کمرشل گاڑیاں شامل ہیں۔
سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی احکامات کے تحت شہریوں کو بہتر پولیس سروسز کی فراہمی، ٹریفک ایجوکیشن اور مؤثر انفورسمنٹ اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے رکشوں اور پبلک سروس گاڑیوں میں کیو آر پینک بٹن نصب کیے جا رہے ہیں۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق مؤثر انفورسمنٹ کے نتیجے میں ہیلمٹ کے استعمال کی شرح 95 فیصد، لین لائن کی خلاف ورزیوں میں 71 فیصد جبکہ ون وے خلاف ورزیوں میں 64 فیصد کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سخت انفورسمنٹ کے باعث کمرشل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے رجحان میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس موقع پر سی ٹی او لاہور نے مین بلیوارڈ پر بس بے (Bus Bays) کی ازسرنو ڈیزائننگ، کمرشل گاڑیوں میں ٹریکر سسٹم کی تنصیب، لاری اڈہ اور ٹرک اڈہ سمیت مختلف مقامات پر فٹنس سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے دو موبائل وینز کی فراہمی اور روٹ پرمٹ و فٹنس سرٹیفکیٹ کے آن لائن ڈیٹا کو ون ایپ میں یکجا کرنے کی سفارشات بھی پیش کیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں جبکہ 15 پر موصول ہونے والی ٹریفک شکایات اور کالز میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان نے شہریوں کی سہولت، ٹریفک کی روانی اور جدید ٹریفک نظام کے فروغ کے لیے لاہور ٹریفک پولیس کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔











