لاہور (پنجاب پوسٹ) شہر میں ٹریفک حادثات کی روک تھام اور شہریوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ممنوعہ اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلے اور نقل و حرکت پر چالان کے بجائے مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق ہیوی گاڑیاں شہر کی مجموعی ٹریفک کا صرف 4.5 فیصد ہیں، لیکن 44 فیصد حادثات میں ملوث پائی گئی ہیں۔ حادثات میں ہیوی گاڑیوں کے اس تناسب کے پیش نظر پبلک سروس وہیکلز، کمرشل گاڑیوں اور ہیوی ٹریفک کی خصوصی چیکنگ کا حکم دیا گیا ہے۔
سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ لاہور میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلے اور چلنے پر مکمل پابندی ہے۔ رات 11 بجے سے پہلے ہیوی ٹریفک شہر میں داخل نہیں ہوسکتی، جبکہ صبح 7 بجے کے بعد بھی ہیوی گاڑیوں کے شہر میں داخلے اور نقل و حرکت کی اجازت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان کو ہیروگیری مہنگی پڑگئی، پٹرولنگ آفیسر سے بدتمیزی کرنے پر حوالات جا پہنچا
پابندی کے زمرے میں ٹریکٹر ٹرالیاں، ٹرالرز، ٹرک، لوڈرز اور کنسٹرکشن مشینری بھی شامل ہیں۔ ممنوعہ اوقات میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر صرف چالان نہیں ہوگا بلکہ مقدمات درج کیے جائیں گے۔ رات کے وقت ہیوی ٹریفک کو قافلوں کی صورت میں مرحلہ وار شہر میں داخل کیا جا رہا ہے۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق آئل ٹینکرز کو بھی صرف مقررہ اوقات میں شہر میں داخلے اور نقل و حرکت کی اجازت ہے۔ گاڑی کی مقررہ باڈی سے باہر نکلا ہوا سامان بھی حادثات کا سبب بنتا ہے، جس پر سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔
سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ کمرشل اور ہیوی گاڑیوں کی مؤثر چیکنگ حادثات میں کمی اور شہریوں کے محفوظ سفر کے لیے ناگزیر ہے۔ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور مؤثر کارروائی نہ کرنے والے سیکٹر انچارجز کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
سی ٹی او لاہور نے کہا کہ حادثات کی روک تھام اور شہریوں کے محفوظ سفر کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔












