اینکر ربیعہ احسن کے قتل کا مقدمہ بھائی کی مدعیت میں درج، بھائی نے آخری لمحے کیا دیکھا؟

راولپنڈی (پنجاب پوسٹ) نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کی سینئر اینکر پرسن ربیعہ احسن کے قتل کا مقدمہ تھانہ صدر بیرون6ی راولپنڈی میں درج کر لیا گیا۔ مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں ربیعہ احسن کے شوہر پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 8 نومبر کی سہ پہر تقریباً2 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا۔ مدعی نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بہن ربیعہ احسن اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ راولپنڈی کے علاقے گلشن آباد میں واقع گھر میں موجود تھیں۔

مدعی کے مطابق وہ اپنی بہن ربیعہ سے ملنے اسکے گھر جا رہا تھا کہ اسے راستے میں دوسری بہن علوینہ احمد نے فون کیا اور بتایا کہ8 نومبر کو دن ڈھائی بجے وہ اپنی والدہ کیساتھ لان میں موجود تھی جبکہ ربیعہ اور احسن اپنے بیڈ روم میں موجود تھے

یہ بھی پڑھیں: اینکر پرسن رابعہ احسن کی پر اسرار موت: گولی چلنے کے بعد پولیس کو اطلاع کس نے دی؟ شوہر بیٹھا کیا کر رہا تھا؟

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ علوینہ کے مطابق انہیں گولی کی آواز سنائی دی ، دونوں ماں بیٹی بھاگ کر بیڈ روم میں پہنچیں ، جہاں انکے مطابق ربیعہ بیڈ کیساتھ خون میں لت پت تھی جبکہ احسن کے ہاتھ میں پسٹل تھا ۔بھائی نے ایف آئی آر میں موقف اپنایا کہ جس وقت وہ بہن کے گھر پہنچا تو ربیعہ کی لاش فرش پر پڑی تھی

مدعی نے الزام عائد کیا کہ ان کی بہن کو ان کے شوہر نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی کے بیان پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف آئی آر میں پنجاب آرمز ترمیمی آرڈیننس 2015 کی دفعہ 13-2(a) بھی شامل کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کا پوسٹ مارٹم ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال راولپنڈی میں مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ موت کی حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوگیا ہے

یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی ، معروف اینکر پرسن اپنے فلیٹ پر مردہ حالت میں ملیں ، تحقیقات جاری

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے