سب مل ملا کر کام کرتے ہیں، ڈیل دیکھتے ہیں، اینٹی کرپشن کس انتظار میں ہے؟ لاہور ہائیکورٹ

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں جھنگ میں چھ جعلی رجسٹریاں کرنے کے مقدمے میں رجسٹری محرر تاج محمد کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سسٹم پر ایف آئی آر کا اندراج چھ سال سے موجود ہے، درخواست گزار کو چھ سال بعد ملوث کرلیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سب مل ملا کر کام کرتے ہیں، ڈیل دیکھتے رہتے ہیں، چھ سال سے ایف آئی آر پڑی ہے، اینٹی کرپشن حکام کس کے انتظار میں رہے؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر درخواست گزار ملزم تھا تو اسے انکوائری میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ ڈیل ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ گھر پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل تصور حیات لک نے عدالت کو بتایا کہ جھنگ میں چھ جعلی رجسٹریاں درج کرنے کا مقدمہ بنایا گیا، اینٹی کرپشن نے انکوائری کے بعد 2020 میں ایف آئی آر درج کی۔ درخواست گزار اس دوران اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا رہا، تاہم اب اینٹی کرپشن نے اسے کیس میں ملوث کردیا ہے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، عدالت درخواست گزار کی عبوری ضمانت کنفرم کرے۔ عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے