لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب کے صنعتی محنت کشوں کے بچوں کے روشن مستقبل کی جانب اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ اور پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
صوبائی وزیر لیبر و افرادی قوت محمد منشاء اللہ بٹ، سیکرٹری لیبر دانش افضال، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ مجتبٰی بھروانہ، کمشنر سوشل سکیورٹی ذوالفقار علی کھرل نے شرکت کی۔
ایم او یو کے تحت محنت کشوں کے بچوں کو تعلیمی وظائف مہیا کیے جائیں گے،رجسٹرڈ صنعتی ورکرز کے بچوں کے لیے یونیورسٹی میں انڈرگریجویٹ کے 44 پروگرامز میں 178 نشستیں مختص ہوں گی
ایم فل/ایم ایس سی کے 44 پروگرامز میں 52 نشستیں مختص ہوں گی جبکہ پی ایچ ڈی پروگراموں میں 29 مخصوص نشستیں مختص کی جائیں گی،تعلیمی وظائف میں داخلہ، ٹیوشن، رجسٹریشن اور امتحانی فیس بھی شامل ہو گی۔ لائبریری، لیب/کمپیوٹر، ہاسٹل، میسنگ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی شامل ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ نعیم پوزیشن کیس میں ناقص چیکنگ پر چار سپر چیکرز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
سیکرٹری ورکرز ویلفیئر ڈاکٹر مجتبیٰ بھروانہ اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزماں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔صوبائی وزیر لیبر نے کہا کہ محنت کشوں کی فلاح کے لیے اداروں کے درمیان باہمی اشتراک خوش آئند ہے،
محمد منشاء اللہ بٹ نے بھی کہا کہ محنت کشوں کے بچوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا پنجاب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ورکرز کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
تقریب میں ڈائریکٹر ایڈمن انعم علی خان،ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجز ڈاکٹر ثاقب مجید اور دیگر افسران نے شرکت کی










