لاہور میں نجی اور کمرشل عمارتوں کیلئے نئے قوانین، خلاف ورزی پر کیا سزا ہو سکتی ہے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے غیر قانونی تعمیرات اور غیر قانونی کمرشل املاک کے خلاف کارروائی کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے انفورسمنٹ انسپکشن رجیم کے نئے ایس او پیز نافذ کر دیے ہیں۔

ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کی ہدایت پر ڈائریکٹر ایڈمن نے نئے ایس او پیز کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نئے نظام کے تحت غیر قانونی تعمیرات، لینڈ یوز قوانین کی خلاف ورزی اور واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف جاری ہونے والے نوٹسز، سیلنگ اور مسماری کی کارروائی کو ڈیجیٹل طور پر مانیٹر کیا جائے گا۔

ایل ڈی اے کے مطابق ڈیجیٹل فائل پروسیسنگ سسٹم کے ذریعے تمام نوٹسز کو کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ جیو ٹیگڈ تصاویر اور متعلقہ ریکارڈ کی آن لائن مانیٹرنگ بھی ہوگی۔

نئے ایس او پیز کے تحت املاک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں غیر قانونی تعمیرات، پہلے سے موجود عمارت کے استعمال میں غیر قانونی تبدیلی اور واجبات کی عدم ادائیگی شامل ہیں۔

غیر قانونی کمرشل استعمال کی صورت میں متعلقہ مالک کو 15 دن کا موقع دیا جائے گا، جبکہ غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں 5 دن کی مہلت دی جائے گی۔ مقررہ مدت میں خلاف ورزی دور نہ کرنے کی صورت میں نوٹس، سیلنگ اور مسماری سمیت قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔

سیل شدہ املاک کو جرمانے کی ادائیگی، بحالی یا باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی ڈی سیل کیا جائے گا۔ ایل ڈی اے میں پہلی بار کسی بھی پراپرٹی کی ڈی سیلنگ کا ریکارڈ بھی ڈیجیٹل طور پر مرتب کیا جائے گا۔

غیر قانونی کمرشل املاک کی نشاندہی اور نوٹسز کی واپسی یا تصحیح کے لیے چیف ٹاؤن پلانر کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی میں چیف آئی ٹی آفیسر، ڈائریکٹر ریونیو، ڈائریکٹر لاء اور متعلقہ ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شامل ہوں گے۔

کمیٹی کسی پراپرٹی کو غیر قانونی کمرشل قرار دینے، نوٹس جاری کرنے، نوٹس واپس لینے یا تصحیح کے معاملات کا جائزہ لے گی۔ اس دوران منظور شدہ یا غیر منظور شدہ بلڈنگ پلان، عارضی یا مستقل کمرشلائزیشن، قانونی حیثیت، بقایاجات، جرمانے، ریونیو ریکارڈ اور سائٹ سے متعلق معلومات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔


کمیٹی متعلقہ پراپرٹی سے متعلق شکایات، انسپکشن رپورٹس، عدالتی حکم امتناعی یا سٹے آرڈر اور کسی مجاز اتھارٹی کی جانب سے پہلے سے دی گئی منظوری، استثنیٰ، کمپوزیشن یا ریگولرائزیشن کو بھی مدنظر رکھے گی۔


نئے ایس او پیز کے مطابق کمیٹی کا فیصلہ اور معاون ریکارڈ ڈیجیٹل سسٹم پر اپلوڈ کیا جائے گا، جبکہ بعد میں ہونے والی کسی بھی تصحیح یا تبدیلی کا ریکارڈ سسٹم کے آڈٹ ٹریل میں محفوظ رہے گا۔


ٹاؤن پلاننگ ونگ کے تمام زونز کسی بھی پراپرٹی کی سیلنگ یا مسماری سے قبل متعلقہ چیف ٹاؤن پلانر کو مطلع کریں گے۔ نئے ایس او پیز میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کے اختیارات اور ذمہ داریاں بھی واضح کر دی گئی ہیں۔


ایل ڈی اے حکام کے مطابق نئے نظام کا مقصد فیلڈ آپریشنز کو شفاف بنانا، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی میں یکسانیت پیدا کرنا اور تمام اقدامات کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھنا ہے۔ ایس او پیز پر لاپرواہی یا غفلت کی صورت میں متعلقہ عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے