لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے یونیورسٹی کی بگڑتی ہوئی مالی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے مالی معاملات کا فوری اور جامع آزاد فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق یونیورسٹی کے تقریباً 4.88 ارب روپے کے ریزرو فنڈز، جو برسوں کی مالی منصوبہ بندی اور کفایت شعاری کے نتیجے میں جمع ہوئے تھے، گزشتہ 14 ماہ کے دوران استعمال کیے گئے۔ دوسری جانب مالی سال 2025-26 کا بجٹ 2.57 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ پیش کیا گیا، جبکہ مختلف شعبہ جات کی تقریباً 786 ملین روپے کی جمع شدہ رقوم کو مرکزی سطح پر منتقل کرکے خرچ کیے جانے پر بھی شفافیت کے سوالات موجود ہیں۔
کمیٹی کے مطابق یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلف سپورٹنگ پروگرامز بھی تقریباً 350 ملین روپے کے خسارے کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال یونیورسٹی کے مالی نظم و ضبط اور طویل مدتی معاشی پائیداری کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ مالی بحران کے اثرات اب یونیورسٹی کی بنیادی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ریسرچ گرانٹس، ٹریول گرانٹس اور پبلیکیشن سپورٹ کی عدم فراہمی سے تحقیقی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ یونیورسٹی کو مستقبل میں قومی و بین الاقوامی تحقیقی فنڈنگ کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے مالی معاملات کا فوری آزاد فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
ریزرو فنڈز، بجٹ خسارے، ون اکاؤنٹ پالیسی اور سیلف سپورٹنگ پروگرامز کے مالی معاملات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
یونیورسٹی کی طویل مدتی مالی پائیداری کا منصوبہ تشکیل دیا جائے۔
زیرِ التوا ریسرچ گرانٹس اور اساتذہ و ملازمین کے مالی واجبات فوری ادا کیے جائیں۔
یونیورسٹی کے قانونی اور مالی فورمز کو فعال کرکے تمام بڑے مالی فیصلے شفاف اور اجتماعی طریقے سے کیے جائیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے واضح کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کا مالی بحران صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل، تحقیقی سرگرمیوں، ملازمین کے معاشی تحفظ اور ملک کے ایک اہم قومی علمی ادارے کی پائیداری کا مسئلہ ہے۔
کمیٹی نے حکومتِ پنجاب اور چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے واضح اور مؤثر روڈ میپ دیں.













