لاہور( پنجاب پوسٹ ایکسکلیوزو ) سابق صحافی اقرار الحسن ایئرپورٹ پر ایف آئی اے اہلکار سے الجھ پڑے، لاہور ایئرپورٹ پر ایک ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب معروف اینکر اقرار الحسن ملائشیا سے وطن واپس پہنچے۔ امیگریشن کے دوران فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر نامناسب جملہ کہا گیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
پنجاب پوسٹ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب اقرار امیگریشن کلیئرنس سے گزر رہے تو ایک اہلکار نے سرگوشی کی کہ اس کا حشر بھی جواد احمد جیسا ہوگا ۔ جس پر اقرار الحسن نے سخت ردعمل دیا اور اہلکار کے رویے پر اعتراض اٹھایا۔ دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا
ویڈیو میں اقرار الحسن کو ایف آئی اے اہلکار سے تلخ لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے،اقرار الحسن کاکہناتھا کہ ہمت تو کرو ناں یار اگر خان کے فالور ہو تو تھوڑی سی دلیری تو دکھاؤ،مرد کے بچے بنوں ناں،جو بات کی ہے مانو تو سہی۔
اس پر ایف آئی اے اہلکار کاکہناتھا کہ سر آپ بحث کررہے ہیں، سابق صحافی نے کہاکہ آپ بحث کررہے ہیں،میرے ٹیکس کے پیسوں سے یونیفارم پہن کر کھڑے ہیں اور میرے خلاف بات کریں گے۔
اہلکار کاکہناتھا کہ سر میں اپنی ڈیوٹی کررہا ہوں،اقرارالحسن کاکہناتھا کہ آپ اپنی ڈیوٹی نہیں کررہے تھے،آپ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ یونیفارم میں امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑے ہو کر کسی پر سیاسی تبصرہ کریں،آپ کو شرم نہیں آرہی کہ اس بات پر آپ معافی مانگیں،
اہلکار کاکہناتھا کہ سر میں نے آپ نے بات نہیں کی،اقرارالحسن کاکہناتھا کہ آپ نے اپنے کولیگ سے بات کی ہے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہے۔ کچھ افراد اقرار الحسن کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں اور سرکاری اہلکار کے رویے پر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کو تحمل سے نمٹانا چاہیے۔
دریں اثنا پنجاب پوسٹ کی ویڈیو پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ ’’جعلی ہی سہی لیکن یہی تو ان کا بیانیہ ہے کہ کسی وردی والے کو سیاست نہیں کرنے چاہئے لیکن خود ایف آئی اے کی وردی پہن کر میری فیملی کے سامنے آپ گالی دے کر تضحیک آمیز سیاسی جملے کسیں گے تو جواب تو ملے گا۔ چند گھنٹے میں تفصیلی ویڈیو میں ثبوتوں کے ساتھ سب بتاؤں گا۔‘‘










