کوٹلی ستیاں( پنجاب پوسٹ ) ایم پی اے پی پی-06 بلال یامین ستی کے کوآرڈینیٹر فیصل ستی باغی نے کہا ہے کہ کوٹلی ستیاں میں جاری ترقیاتی اور سیاحتی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھانے والے عناصر دراصل اپنی ڈوبتی ہوئی سیاست کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے جاری کردہ بیان میں فیصل ستی باغی نے کہا کہ کوٹلی ستیاں کی دھرتی گواہ ہے کہ کچھ نام نہاد سیاسی عناصر حسبِ روایت ترقیاتی اور ٹورزم منصوبوں پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار میں رہ کر بھی اس خطے کی ترقی کے لیے کچھ نہ کر سکے، اور آج جب ترقی کے دروازے کھل رہے ہیں تو انہیں تکلیف ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کئی افراد آج تک تحصیل کوٹلی ستیاں کی جغرافیائی حدود، وسعت اور اہمیت سے بھی ناواقف ہیں۔ "ان کی سوچ صرف اپنے اردگرد چند کلومیٹر تک محدود ہے، جبکہ کوٹلی ستیاں ایک وسیع، خوبصورت اور بے پناہ امکانات رکھنے والا خطہ ہے۔”
فیصل ستی باغی نے کہا کہ ممکنہ طور پر یونین کونسل بھتیاں میں تعمیر ہونے والا اسکائی گلاس برج* صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ اس علاقے کی تقدیر بدلنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ *”پنج پیر راکس جیسے قدرتی شاہکار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ خطہ دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ بس شرط موجودہ قیادت کی طرح ویژن رکھنے والی مخلص قیادت کی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ یونین کونسل بھتیاں نے تحصیل کے قیام میں جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔آج اگر اس علاقے کو اس کا حق مل رہا ہے تو کچھ عناصر کے لیے یہ ناقابلِ برداشت بن چکا ہے جو بے بنیاد تنقید سے ان منصوبوں کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔
فیصل ستی باغی نے واضح کیا کہ "کوٹلی ستیاں کی ہر یونین کونسل – کرور، اریاڑی، لہتراڑ، بھتیاں، ملوٹ سانٹھی، وگہل، چھجحانہ اور دھیرکوٹ – سب ایک ہیں اور ترقی کے ہر منصوبے کے ساتھ کھڑی ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی حکومت اور منتخب نمائندوں کے ساتھ ہیں، کیونکہ انہوں نے عملی طور پر اس دھرتی سے وفا نبھائی ہے۔ منفی پراپیگنڈہ کرنے والے یاد رکھیں کہ عوام اب باشعور ہے، وہ نعرے نہیں، کارکردگی دیکھتی ہے۔
بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ دھرتی ترقی کرے گا، سیاحت بڑھے گی، روزگار آئے گا اور تعمیری سوچ کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی سیاست خود انہی ترقیاتی منصوبوں کے نیچے دب کر ختم ہو جائے گی۔”










